9 اگست 2026 - 16:21
حسین الحاج حسن: اسرائیل سے 7 دور مذاکرات، لبنان کو کچھ نہیں ملا؛ امریکی سفیر کو طلب کیوں نہیں کیا گیا؟

لبنانی رکن پارلیمنٹ حسین الحاج حسن نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سات ادوار مکمل ہونے کے باوجود لبنان کو کوئی ٹھوس نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ لبنان میں امریکی سفیر کے جانب سے مذاکرات کے ساتویں دور سے کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہ ہونے کے بیان پر انہیں وضاحت کے لیے طلب کیوں نہیں کیا گیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی رکن پارلیمنٹ حسین الحاج حسن نے شمسطار میں پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے ’’العزیر‘‘ کنویں کے منصوبے کے افتتاح کے موقع پر لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری براہِ راست مذاکرات پر شدید تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ لبنان جن براہِ راست مذاکرات میں شامل ہوا ہے، ان کے سات دور مکمل ہوچکے ہیں، لیکن اب تک لبنان کے حصے میں کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا دعویٰ دراصل ایسے نتائج کو اچھا دکھانے کی کوشش ہے جو حقیقت میں موجود ہی نہیں۔

حسین الحاج حسن نے مذاکرات کے دوران جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں کے جاری رہنے اور ان میں شدت آنے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے لبنانی مذاکراتی وفد کے سربراہ پر امریکہ اور اسرائیل کے مطالبات کے سامنے جھکنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی سیاسی و انتخابی مفادات مذاکرات کے عمل پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں لبنان کے مفادات پسِ پشت ڈالے جا رہے ہیں۔

انہوں نے لبنان میں امریکی سفیر کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے مذاکرات کے ساتویں دور سے کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہ ہونے کی بات کی تھی اور سوال کیا کہ لبنان کی وزارت خارجہ نے امریکی سفیر کو اس بیان کی وضاحت کے لیے طلب کیوں نہیں کیا؟

حسین الحاج حسن نے لبنانی حکام کی خاموشی اور مذاکرات کو کسی واضح نتیجے کے بغیر جاری رکھنے پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ میں لبنان سے مزید رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے المنصوری قصبے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنانی فوج کی ایک گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لبنانی حکام کی اولین ترجیح شہریوں کا تحفظ، اسرائیلی حملوں کا خاتمہ، تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو اور قیدیوں کی رہائی ہونی چاہیے۔

لبنانی رکن پارلیمنٹ نے ملک کے پانی کے ادارے ’’مؤسسۂ آبِ بقاع‘‘ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ 2019 سے جاری بحران، ملکی کرنسی کی قدر میں کمی اور سرکاری اداروں کے مالی و انتظامی مسائل نے اس ادارے کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو ادارہ تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے، اور اس مسئلے کے حل کے لیے مقامی اداروں، بلدیات، انجمنوں، سیاسی جماعتوں اور عوام کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha